Translate

Showing posts with label #Iron. Show all posts
Showing posts with label #Iron. Show all posts

Wednesday, May 22, 2019

اگر_سورج_نہ_رہے 🌞

""ایک دلچسپ رپورٹ""
۔ ۔ ۔

 ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو سائنس کو سمجھ کر پڑھتے تو ہیں لیکن کبھی کبھی ان کا تجسس اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ ایسے سوالات کرتے ہیں جو بظاہر تو بے معنی لگتے ہیں لیکن ان کے پیچھے چھپی سائنس کا علم ہر متجسس شخص کو ہونا چاہیے۔ 
ان میں ایک بہت ہی مشہور سوال ہے کہ “کیا ہو اگر سورج اچانک سے غائب ہو جائے؟” 
۔ ۔

مجھے یقین ہے کہ اس سوال کا جواب پڑھنے کے بعد آپ حیران رہ جائیں گے اگر سورج اچانک غائب ہو جائے تو کیا ہو گا۔

اس سوال کے 2 پہلو ہیں، پہلا یہ کہ ایسا ہونے کے بعد کائنات کا نظارہ کیسا ہوگا؟ اور دوسرا پہلو یہ کہ اس سے زمین پر موجود تمام جانداروں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ تو چلیں ان پہلوؤں پر بات کرتے ہیں۔ اگر اچانک سورج غائب ہو جائے تو تب بھی زمینی باشندوں کو اس کی خبر تک نہ ہوگی اور اس کی روشنی ان تک آتی رہے گی۔ 
یہ روشنی محض 8 منٹ تک برقرار رہے گی، ہم جانتے ہیں کہ خلا میں روشنی تقریبا 3 لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے اور زمین سے سورج تک کا درمیانی فاصلہ 15 کروڑ کلو میٹر ہے تو اس فاصلے کو طے کرنے میں روشنی کو 8 منٹ کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔ ایسا حیران کن سیارہ جو اپنے سورج کے آدھے سائز کا ہے جی ہاں! سورج کی روشنی جو آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں، وہ 8 منٹ پہلے سورج سے روانہ ہوئی تھی۔

یوں اس بات کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ روشنی جو اس کائنات کی سب سے تیز رفتار شے کہلائی جاتی ہے، وہ بھی کچھ وقت کے بعد زمین تک پہنچتی ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر زمین سورج کی کشش کی وجہ سے اس کے گرد محور ہے تو جیسے ہی سورج غائب ہوگا، اسی وقت زمین بھی اپنے مدار سے ہٹ کر ایک سیدھ راستے پر چلنے لگ جائے گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اگر آپ نے آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت پڑھا ہے تو اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کائنات میں زمان و مکاں کی ایک چادر موجود ہے، جس چیز کا جتنا زیادہ مادہ ہوگا۔

وہ اس چادر میں اتنا زیادہ خم پیدا کرے گی اور اس کے گرد ڈھلوان پر چھوٹی چیزیں( جن میں سیارے، سیارچے وغیرہ شامل ہیں) گردش کریں گے، آئن اسٹائن نے یہ بھی بتایا کہ اگر کوئی مادہ اس چادر پر حرکت کرے گا یا اچانک غائب ہو جائے گا تو اس چادر میں لہریں، جن کو گریوٹیشنل ویوز کا نام دیا گیا ہے، بنیں گیں اور ان لہروں کے پھیلنے کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کے غائب ہونے کے 8 منٹ بعد ہمیں اس کے غائب ہونے کا علم ہوگا۔

ساتھ ہی ساتھ 8 منٹ بعد ہی زمان و مکاں کی چادر میں خم ختم ہوگا اور اس وقت زمین اپنے مدار سے ہٹ کر سیدھے راستے پر رواں ہوجائے گی۔ سورج کے غائب ہونے کے بعد دنیا میں دن کا وجود سرے سے ہی ختم ہوجائے گا اور نظام شمسی کے تمام سیارے اندھیروں میں ڈوب جائیں گے، سورج زمین پر روشنی کا واحد ممبہ ہے اور اس کے غائب ہونے کے بعد پورے سیارے پر اندھیروں کے ساتھ ساتھ شدید ٹھنڈھ بھی اپنے ڈیرے جما لے گی، عین ممکن ہے کہ چند دنوں میں پورے کرہ پر زندگی کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

سورج کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کتنا پانی درکار ہوگا؟ تو یہ تھا جواب کہ اگر سورج غائب ہوجائے تو کیا ہوگا، لیکن سورج کی موت باقی ستاروں کی طرح ہوگی، ہم جانتے ہیں کہ سورج کے مرکز میں ہائیڈروجن اور ہیلیم کے درمیان کیمیائی عمل جاری ہے، جس کی وجہ سے روشنی اور حرارت بھی پیدا ہوتی ہے، لیکن اس عمل کے نتیجے میں کچھ اور معدنیات بھی بنتی ہیں، جن میں لوہا بھی شامل ہے۔

ان کے بننے کی وجہ سے سورج کا حجم آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق آج سے تقریبا 5 ارب سال بعد سورج کا حجم اتنا بڑا ہوجائے گا کہ یہ نظام شمسی کے پہلے 2 سیاروں، عطارد اور زہرہ، کو تو اپنے اندر نگل ہی لے گا، تاہم زمین بھی سورج میں ضم ہوجائے گی، سورج اس حالت میں انتہائی لال دیو کی طرح ہوگا، اسی وجہ سے اسے فلکیاتی اصطلاح میں “ریڈ جائنٹ” کہتے ہیں، اس حالت میں پہنچنے کے بعد سورج مزید بڑا نہیں ہوگا بلکہ باقی ستاروں کی طرح پھٹ جائے گا۔

اور صرف اس کا مرکز، جو اس وقت اس کے اپنے حجم سے قدرے چھوٹا ہے وہ رہ جائے گا، چونکہ وہ چھوٹا اور سفید روشن ستارہ ہوگا اس لیے اسے “سفید بونا ستارہ” یا وائٹ دوارف کا نام دیا جاتا ہے۔ سورج کے پھٹنے کے بعد خلاء میں بکھرا مادہ بلکل اسی طرح ہی لگے گا جیسے آج ہم آسمان میں نیبولا دیکھتے ہیں، جن میں سب سے مشہور “اورائین نیبولا” ہے۔

اس کے بعد یہ مادہ ضیاع نہیں ہوگا، بلکہ اس سے اور بہت سے ستارے وجود میں آئیں گے۔ سورج کی موت کے وقت اور اس کے بعد یقیناً نہ زمین کا وجود ہو گا اور نہ ہی زمین پر بسنے والے لوگوں کا کوئی پتہ ہوگا۔

ہو سکتا ہے کہ تب تک ہم انسان کائنات کے کسی اور ستارے کے گرد کسی زمین کی کھوج کر لیں اور وہاں منتقل ہو چکے ہوں۔

۔ ۔ ۔
#shefro

Tuesday, April 30, 2019

زمینی_مقناطیسیت ہماری محافظ کیسے !! 🌎 (Magnetic Field)

زمین کی مقناطیسی قوت سورج سے آنے والی تابکار لہروں سے تحفظ دے کر اس سیارے پر زندگی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو، تو زمین پر نہ کوئی کرہء ہوائی ہو اور نہ ہی پانی اپنا وجود قائم رکھ سکے۔

سورج پر جاری انتہائی طاقتور ایتلافی عمل (Fusion reaction) کے نتیجے میں ہر لمحے اربوں تابکار ذرے زمین کی جانب لپکتے ہیں، مگر زمینی مقناطیسی قوت ان ذروں کے زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی راہ تبدیل کر دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ زمین پر زندگی ممکن ہے۔

یونیورسٹی آف روچسٹر سے وابستہ ارضیاتی طبعیات کے ماہر جان ٹارڈُنو کے مطابق، ’’اس مقناطیسی قوت کے بغیر زمین شاید ایک بانجھ سیارہ ہوتی۔‘‘

تاہم اس بارے میں سائنس دانوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے بحث جاری ہے کہ اس سیارے کے مرکزے میں کب اتنا لوہا جمع ہوا اور کب اس ڈھال نے اپنا کام شروع کیا۔

تیس جولائی جمعرات کے روز محققین کی جانب سے مغربی آسٹریلیا سے حاصل کردہ نہایت باریک ذروں اور قلموں کے شواہد کی روشنی میں بتایا گیا کہ زمینی مقناطیسیت نے کم از کم 4.2 ارب سال پہلے اپنا کام شروع کیا تھا۔ یہ دعویٰ اس قوت کی ابتدا کو اب تک کے اندازوں سے کہیں زیادہ قدیم بتا رہا ہے۔

اس سے قبل سائنسدان بتاتے رہے ہیں کہ زمین پر اس مقناطیسی قوت کی ابتدا ساڑھے تین ارب سال قبل یعنی سیارہ زمین کے وجود میں آنے کے ایک ارب سال بعد ہوئی تھی۔ تاہم یہ تازہ تحقیق بتا رہی ہے کہ سیارہ زمین کے وجود میں آنے کے کچھ ہی برس بعد یہ قوت پیدا ہوئی، جو آج تک اس سیارے پر زندگی کی ضمانت اور محافظ بنی ہوئی ہے۔

یہ نتائج جریدے ’سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے والی ٹیم کے قائد ٹارڈُنو کے مطابق، ’’چار ارب برس قبل سولر ونڈز (سورج سے آنے والی تابکار ہوائیں) زیادہ شدید تھیں۔ اس طرح سورج کی ان تابکار ہواؤں کو اپنے قریب آنے سے روکنے والی یہ صلاحیت بھی اب سے دس گنا زیادہ تھی۔ اس کی عدم موجودگی میں زمین پر کرہء ہوائی پیدا ہونا ممکن نہیں تھا اور اگر یہ قوت نہ ہوتی تو زمین سے سارا پانی ختم ہو جاتا۔‘‘

یہ تحقیق مغربی آسٹریلیا میں واقع جیک ہِلز میں موجود قدیم زِرکون قلموں کے تفصیلی مطالعے پر مبنی ہے، جس سے زمینی مقناطیسیت اور اس کی تاریخ اور شدت کا پتہ ملتا ہے۔

محققین نے ان ایک ملی میٹر کے ایک دہائی یا دو دہائی کے برابر حجم کی حامل قلموں کا مشاہدہ کیا۔ یہ قلمیں 3.2 تا 4.2 ارب برس قدیم ہیں۔ یہ قلمیں یہ بتاتی ہیں کہ اس تمام عرصے میں زمین پر برقی مقناطیسی قوت موجود تھی۔

سائنس دانوں کے مطابق مقناطیسی قوت کی عدم موجودگی میں زمین پر زندگی کا ارتقاء اور نمو کسی بھی طور ممکن نہیں تھے۔

یہ بات اہم ہے کہ نظامِ شمسی میں واقع صرف دو زمین اور عطارد ’روکی پلینٹس‘ یا چٹانی سیارے مقناطیسی قوت کے حامل ہیں۔ یہ قوت مریخ پر بھی موجود تھی، تاہم چار ارب برس قبل مریخ اپنی یہ قوت کھو بیٹھا تھا۔

محققین کے مطابق ایک وقت تھا، جب مریخ بھی کثیف کرہ ہوائی اور سمندروں کا حامل تھا، مگر مقناطیسی قوت کھوتے ہی، سورج سے آنے والی طاقتور تابکار ہواؤں نے اس کا کرہء ہوائی چھیل کر رکھ دیا اور پانی کے مالیکیول ٹوٹ گئے تھے۔

۔ ۔ ۔
#shefro